Wednesday, February 12, 2014

Mera Sultan (Turkish Drama)


سلطنت عثمانیہ کا ایک درخشاں باب 


'میرا سلطان' ایک ترک ڈراما ہے جو اُردو ترجمے کے ساتھ پاکستان میں بھی دکھایا جارہا ہے اور اکثر لوگ اسے ذوق و شوق سے دیکھ رہے ہیں۔گذشتہ دنوں ترک وفد نے پاکستان کا دورہ کیا۔ اس موقع پر اس وفد نے اس ڈرامے کے بارے میں بھی اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ ترک وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ: 'میرا سلطان' میں خلافت عثمانیہ کے دسویں سربراہ سلطان سلیمان کی زندگی کے متعلق حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے۔ سلطان سلیمان نے
۱۵۲۰ء سے ۱۵۶۶ء تک یورپ اور افریقہ کے کئی ممالک کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا تھا۔ اس نے اپنی ایک کنیز سے شادی ضرور کی تھی لیکن سلطان سلیمان کے خاندان کی عورتیں کھلے گریبان والا لباس پہننے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھیں،بلکہ اس زمانے میں ترکی کے کسی علاقے میں عورتیں اس طرح کا غیر مہذب لباس نہیں پہنتی تھیں جو 'میرا سلطان' میں دکھایا جاتاہے۔ اس موقع پرترکی کے صدر عبداللہ گل نے کہا کہ ''اگر ان کا بس چلے تو اس ڈرامے پر پابندی لگادیں''۔ ('میرا سلطان'،جنگ، ۱۰؍اکتوبر ۲۰۱۳ء)
معاشرے پر میڈیا کے جو دور رس اثرات ہیں وہ محتاجِ بیان نہیں۔ ایک جانب اگر میڈیا تعلیم اور شعور و آگہی کے فروغ میں اپنا کردار ادا کررہا ہے، تو وہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ معاشرے میں حرص و ہوس، دولت و شہرت کی دوڑ، دوسروں کو نیچا دکھانے کی کوششیں، حسد و رقابت کے جذبات کے فروغ میں(ڈراموں اور فلموں بالخصوص ہندستانی اور ترک ڈراموں کی صورت میں)بھی میڈیا کا ایک بڑا کردار ہے۔ میڈیا کے ذریعے ڈراموں کی صورت میں (بالخصوص'میرا سلطان' کے ذریعے)شعوری طور پر ایک منظم طریقے سے دنیا بھر کے ناظرین کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ عثمانی سلاطین عیش و عشرت کے دلدادہ تھے۔ اسلام کے ساتھ ان کا تعلق رسمی تھا۔ عثمانیوں کی تاریخ___ اسلام سے وابستہ نہیں ہے بلکہ ان کا رشتہ لادینیت سے ہے۔ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ کا ان کی ذاتی زندگی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ آزادیِ اظہارو خیال، تفریح اور روشن خیالی کے نام پرکم از کم پاکستانی میڈیا کو تاریخ کو مسخ کرنے کی ان کوششوں کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ میڈیا بالخصوص الیکٹرانک میڈیا جو وسیع دائرہ اثر رکھتا ہے ، اس پر بھاری ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے۔ اگر کوئی ڈراما کسی تاریخی شخصیت سے متعلق ہے تو نہ صرف اخلاقیات بلکہ قانون کے مطابق بھی یہ ضروری ہے کہ تاریخی واقعات کودرست انداز میں پیش کیا جائے نہ کہ شعوری طور پر لوگوں کے لاشعور میں تاریخ کو مسخ کرکے راسخ کیا جائے۔ عموماً لوگوں کی تاریخ سے واقفیت اور دل چسپی کم ہی ہوتی ہے۔ آج سے چند ماہ پہلے اگر کسی سے سلطان سلیمان اعظم کے بارے میں دریافت کیا جاتا تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ سلطان سلیمان کے نام سے بھی ناواقف ہوتا۔ لیکن آج کسی عام فردسے بھی دریافت کرکے دیکھ لیا جائے ، سلطان سلیمان سے وہ خوب واقف نکلے گا اور اس کا ماخذ ہوگا 'میرا سلطان'۔ جب تاریخ کا ماخذ 'میرا سلطان' اور اسی طرح کے دیگر ڈرامے ہوں تو تاریخی شعور وآگہی کی علمی سطح کا بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے ع 
ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہیے
راقم الحروف تاریخ کے ایک طالبِ علم کی حیثیت سے یہ سمجھتا ہے کہ ترکی کے صدر عبداللہ گل کا اس ڈرامے کے حوالے سے اظہارِ ناپسندیدگی بالکل بجا ہے۔ مذکورہ بالا الفاظ ان کے تاریخی و سماجی شعور کا پتا دیتے ہیں۔آج کل متعدد پاکستانی چینلوں پراسی طرح کے کئی ترک ڈرامے اردو ترجمے کے ساتھ نشر کیے جارہے ہیں اور پاکستانی ناظرین کی ایک بڑی تعداد بالخصوص خواتین ان ڈراموں کو دیکھ رہی ہیں۔ نہ صرف عام گھریلو خواتین بلکہ ممتاز سیاسی و سماجی شخصیات بھی ان ڈراموں سے متاثر ہیں۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ اس موقعے پر تاریخ کے کچھ اوراق پلٹ کر دیکھ لیے جائیں۔ 

*سلطان سلیمان اعظم کا دورِ حکومت:
۱۲۸۸ء میں اناطولیہ میں عثمانی ترکوں نے ایک ریاست کی بنیاد رکھی، جو اناطولیہ سے یورپ کے قلب تک پھیل گئی۔عثمانی حکومت کا آغاز ایک چھوٹی سی ریاست سے ہوا، جو بڑھتے بڑھتے تین براعظموں اور سات سمندروں کو محیط ہوگئی۔ عثمانی ترکوں کی یہ حکومت ۱۹۲۴ء تک خلافت عثمانیہ کی حیثیت سے قائم رہی ۔ سلیم اوّل کی وفات کے بعد ۱۵۲۰ء میں اس کا بیٹا سلیمان ۲۶ سال کی عمر میں تخت نشین ہوا، جسے عثمانی ترکوں کا سب سے بڑا حکمران یعنی 'سلیمان اعظم' اور 'سلیمان ذی شان' اور 'سلیمان عالی شان' کہا جاتا ہے ۔سلیمان نے اپنی وفات (۱۵۶۶ء) تک تقریباً نصف صدی انتہائی شان و شوکت کے ساتھ حکومت کی ۔ سلطان سلیمان کادور نہ صرف عثمانی تاریخ بلکہ تاریخ عالم کا ایک نہایت اہم دور ہے۔ 
سلیمان اعظم کا دور عثمانی سلطنت کی توسیع و فتوحات کا دور تھا۔اس نے اپنے وقت کی بڑی طاقتوں سے صف آرا ہوکر نہ صرف سلطنتِ عثمانیہ کے وجود کو برقرار رکھا بلکہ اسے مزید مستحکم کیا۔
۱۵۲۱ء میں سلیمان نے ہنگری کے مشہور شہر بلغراد کو فتح کیا۔بلغراد ایک انتہائی اہم شہر تھا جو دریاے ڈینوب پر اہل یورپ کا دفاعی مورچہ تھا۔ ۱۵۲۲ء میں روڈس کے جزیرے کا محاصرہ کیا گیا جو پانچ ماہ تک جاری رہا۔ جب سلیمان نے دیکھا کہ محصورین کی قوت مزاحمت ختم ہوچکی ہے تو سلطان نے انتہائی فراخ دلانہ شرائط کی پیش کش کی ۔ اس نے اہل روڈس کو اس کی اجازت دے دی کہ ۱۲دن کے اندر اپنے تمام اسلحے اور سامان کے ساتھ اپنے جہازوں میں ہی جاسکتے ہیں (لیکن یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اکثریت نے ترکوں کے ماتحت جزیرے میں ہی رہنا منظور کیا)۔ انھیں مکمل مذہبی آزادی دی گئی۔ پانچ سال کے لیے ان کے ٹیکس معاف کردیے گئے ۔ روڈس کی فتح کے بعدبہادر نائٹوں کی خاندانی روایات کی حامل ڈھالیں جو ان کے مکانوں پر آویزاں تھیں ویسے ہی لگی رہنے دی گئیں۔ 
۱۵۲۶ء میں سلیمان اعظم نے ہنگری کی جانب قدم بڑھایا جو اس کی فتوحات میں تیسرا بڑا محاذ تھا۔ ہنگری کو فوجی نقطۂ نظر سے عیسائیوں کی ایک مضبوط طاقت خیال کیا جاتا تھا۔ دو گھنٹے سے بھی کم وقت میں ہنگری کی قسمت کا فیصلہ ہوگیا اور ہنگری سلطنت عثمانیہ کا حصہ بن گیا۔ ۱۵۲۹ء میں سلیمان نے آسٹریا کی جانب پیش قدمی کی۔ آسٹریا جرمنی کی سلطنت کا ایک حصہ تھا۔ سلیمان کے دور میں چارلس پنجم یورپ کا سب سے بڑا حکمران تھا۔ اس نے اپنے بھائی فرڈیننڈ کو آسٹریا کا حکمران مقرر کیا ہوا تھا۔ ستمبر ۱۵۲۹ء کو سلیمان اعظم آسٹریا کے دارالحکومت ویانا تک پہنچ گیا۔آسٹریا نے ہر دسویں آدمی کو فوجی خدمت کے لیے طلب کرلیا۔ ہمسایہ ریاستوں سے امدادی دستے طلب کرلیے۔ شہرکے اندر پرانی فصیل کے ساتھ ایک نئی فصیل بنائی گئی۔ اپنے دفاع کو مزید تقویت دینے کے لیے شہر کے نواحی علاقے بھی تباہ کردیے تاکہ ترک ان علاقوں سے فائدہ اٹھاکرپاےۂ تخت ویانا کو فتح نہ کرسکیں۔ لیکن ان تمام تر دفاعی تیاریوں کے باجود سلیمان نے ویانا کا محاصرہ کرلیا۔ فرڈیننڈ محاصرے سے پہلے ہی فرار ہوگیا۔ ۲۷ستمبر سے ۱۴؍اکتوبر ۱۵۲۹ء تک ویا نا کا محاصر ہ جاری رہا۔اگرچہ بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر (ایک طویل عرصے سے جنگ میں مصروف رہنے، موسم کی شدت، ینی چری* کی حکم عدولی اور اپنی قوت کو مزید ضائع ہونے سے بچانے کے لیے) سلیمان اعظم کو یہ محاصر ہ اٹھا ناپڑا لیکن اس کی فتوحات نے اب وسطی یورپ میں اپنی آخری حد مقرر کردی تھی۔ 
سلیمان اعظم کے عہد میں عثمانی ترک خشکی کی طرح سمندروں میں بھی ایک ناقابل تسخیر قوت بن کر سامنے آئے۔ یورپی ممالک کے بحری بیڑے عثمانیوں کے مقابلے میں آنے سے کترانے لگے۔ وینس کی صدیوں پرانی بحری طاقت کا بھی خاتمہ ہوگیا۔ سلیمان کے امیر البحر خیرالدین باربروسا نے بحرروم کے علاقے میں پری ویسا کی مشہور بحری جنگ لڑی اور اتحادیوں کو زبردست شکست دے کر اپنی بحری برتری ثابت کردی۔ اپنی بحری طاقت کی بدولت سلیمان نے الجزائر اور طرابلس کے صوبے اور بحر ایجین کے کئی جزیرے فتح کر کے سلطنت عثمانیہ میں شامل کرلیے۔ 
۱۵۳۵ء میں فرانس کے حکمران فرانسس اوّل نے سلیمان اعظم سے دوستی، امن اور تجارت کا معاہدہ کیا جس کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ کی سطوت و اقتدار کو یورپ میں تسلیم کیا گیا۔ ۱۵۴۷ء میں ایک معاہد ہ ہوا جس میں شہنشاہ چارلس، پوپ، فرانس کا بادشاہ اور جمہوریہ وینس فریق تھے۔ جس کی رُو سے فرڈیننڈ نے سلطان کو ۳۰ ہزار دوکات سالانہ بطور خراج ادا کرنے کا وعدہ کیا اور اپنے آقا سلطان کے وزیر کا بھائی کہلوانے پر فخر کیا۔ 
سلیمان کی سلطنت کی وسعت کا ایک بڑا سبب اس کی فوجی قوت اور نظام تھا۔ مشہور مؤرخ ایڈورڈکریسی (
Edward Creasy) لکھتا ہے:''سلیمان اپنی فوجوں کے جسمانی آرام اور اخلاقی نگرانی پر جس قدر توجہ دیتا تھا، اس کو اس بے پروائی سے کوئی مناسبت نہ تھی جو اس کے حریفوں کے لشکر میں بد نصیب سپاہیوں کے ساتھ برتی جاتی تھی''۔ 
سلیمان اعظم کا عہد نہ صرف فتوحات کا دور تھا بلکہ سلطنت عثمانیہ اپنی وسعت ، قوت و طاقت اور خوشحالی کے اعتبار سے بھی بامِ عروج کو پہنچ چکی تھی۔ سلیمان نے ملکی نظم و نسق کی طرف بھی اتنی ہی توجہ دی جتنی فتوحات کی طرف دی تھی۔ اس عظیم الشان سلطنت کو
۲۱ ولایتوں (صوبوں) میں تقسیم کیا۔ ان ولایتوں کو سنجقوں(ضلعوں) میں تقسیم کیا جن کی تعداد ۲۵۰ تھی ۔ ہرولایت اور سنجق کا نظام مقرر کیا جن کی نگرانی حکومت کے مقرر کردہ افسران کرتے تھے۔ سلیمان نے جاگیرداری نظام کی طرف بھی توجہ دی اور بدعنوانیوں کے خاتمے کے لیے قانون سازی کی۔ رعایا کے لیے جو قوانین بنائے گئے وہ قانونِ رعایا کہلائے۔ سلیمان نے اپنی غیر مسلم رعایا کے لیے جو قوانین بنائے تھے وہ اس کی رواداری اور روشن خیالی کی ایک مثال تھے۔مشہور مورخ لارڈ ایورسلے سلیمان کی قوانین سازی کے بارے میں لکھتا ہے: ''یہ بات قابل غور ہے کہ سلیمان کو 'اعظم' کا لقب اس کے یورپی ہم عصروں نے دیا تھا۔ ترکی میں وہ' القانونی' کے نام سے مشہور تھا۔ اس کا دور قانون کی تمام شاخوں میں کی جانے والی اصلاحات کے سبب نمایاں ہے جن کا مقصد عدل کا قیام تھا''۔
سلیمان کا عہد علم وادب کے حوالے سے بھی یادگار ہے۔ سلطنت عثمانیہ کا سب سے بڑا شاعر عبدالباقی اسی دورسے تعلق رکھتا تھا۔ سلیمان اہلِ علم کا نہایت قدر دان اور خود بھی شاعراور مصنف تھا۔ اس کے علمی ذوق کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ وہ دورانِ جنگ روزمرہ کے واقعات تحریر کرتا رہتا تھا ۔ اس کے یہ روزنامچے سلطنت عثمانیہ کی تاریخ کے ایک ماخذ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ 
سلیمان کو تعمیرات سے بھی دل چسپی تھی ۔ اسی کے عہد میں سلیمانیہ مسجد تعمیر ہوئی جو ترکی فنِ تعمیر کا بے مثال نمونہ ہے۔ اس کے علاوہ سلیمان نے قسطنطنیہ ، بغداد، قونیہ اور دیگر شہروں میں بھی نہایت خوب صورت اور عالی شان عمارات تعمیر کرائیں۔ قسطنطنیہ میں ایک بڑی نہر بنوائی اور تمام بڑے شہروں میں ہسپتال بھی اس کے دور میں تعمیر ہوئے۔ 
جہاں تک سلیمان اعظم کی ذاتی زندگی کا تعلق ہے، اس کی صفات اس کی عظمت کی حامل ہیں۔ اس کی دانش مندی، منصف مزاجی، فیاضی، نرم دلی اور خوش اخلاقی ضرب المثل تھی۔ اس کی خداداد ذہنی صلاحیتیں اس کے کردار کی تکمیل تھیں۔ایڈورڈ کریسی نے سلیمان کے کردار کی عکاسی ان الفاظ میں کی ہے: ''بطور ایک انسان وہ پرجوش اور مخلص تھا اور ہوس پرستی سے باعزت طور پر پاک تھا جس نے اس کی قوم کے بہت سے لوگوں کو بدنام کیا تھا۔ اس کی شان دار جرأت، فوجی ذہانت، اس کی اعلیٰ مہم جوئی، جو ش و ولولہ، اس کی علم و فن کی حوصلہ افزائی، فتوحات اور عقل مندانہ قانون سازی کو یاد رکھنا چاہیے''۔ 
ایورسلے تحریر کرتا ہے: '' اس کی ذاتی زندگی میں کوئی تعیش نہ تھا''۔ماہر ترکیات ڈاکٹر عزیر لکھتے ہیں: '' اس کی خانگی زندگی بالکل بے داغ تھی ۔ وہ اپنے رحم و کرم کے لیے خاص طور پر مشہور تھا۔ انصاف اس کا مخصوص شیوہ تھا اور اس کی عدالت میں نسل، رنگ اور مذہب کی کوئی تفریق نہ تھی۔ رعایا کی فلاح و بہبود اس کا مطمح نظر تھا''۔ سلطان سلیمان اعظم قانونی حکومت کے فرمانروا کی حیثیت سے بھی اور اپنے کردار کے لحاظ سے بھی آنے والے حکمرانوں کے لیے ایک بہترین مثال چھوڑ کرگیا۔ 
آخر میں ایک اورکالم نگار اور پولیس افسر ذوالفقار احمد چیمہ کے کالم کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے۔ وہ اپنے حالیہ دورۂ ترکی کے حوالے سے لکھتے ہیں: ''ترکی میں بہت سے نوجوانوں، دانش وروں، پی ایچ ڈی ڈاکٹروں اور پولیس افسروں سے ملاقاتیں ہوئیں۔ عالمی حالات، ساؤتھ ایشیا،پاکستان کے مسائل، دہشت گردی، ترکی کی بے مثال ترقی پر بات ہوتی رہی اور چلتے چلتے پاکستان میں دکھائے جانے والے عثمانی سلطنت اور سلطان سلیمان اور حورم پر بنائے جانے والے ڈرامے پر جاپہنچی۔ کوشش کے باوجود ڈرامے کے بارے میں مثبت راے رکھنے والا کوئی شخص نہ مل سکا۔ ہر شخص نے اس پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ کسی نے ڈرامے کو
rubbish [فضول، بکواس]کسی نے nonsense [نامعقول]کہا اور زیادہ تر نے distortion of history [تاریخ کو مسخ کرنا] قرار دیا۔ ایک باخبر شخص نے بتایا کہ ڈرامے کی مصنفہ (جو وفات پاچکی ہیں) نے وصیت کی تھی کہ اسے بعد از مرگ دفنانے کے بجاے جلادیا جائے۔اس سے آپ موصوفہ کے خیالات اور اسلام اور مسلم حکمرانوں کے بارے میں ان کے جذبات کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔ ڈرامے میں جس طرح کی خرافات دکھائی گئی ہیں یہ عظیم الشان حکمران کی شخصیت کے ساتھ گھٹیا اور بھونڈا مذاق ہے۔ یہ تاریخ نہیں یہ صرف مصنفہ کے پراگندا ذہن کی پیداوار ہے''۔

_______________

ڈاکٹر محمد سہیل شفیق


مقالہ نگار جامعہ کراچی ،شعبہ اسلامی تاریخ میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں


--
Shahzad Afzal
http://www.pakistanprobe.com/



Read More >>

Important Message: Facebook Users (Urdu)

1.      برائے مہربانی مکمل پڑھیے اور شیر کیجیئے


یہ پوسٹ خاص طور پر ان نادان یا بیوقوف لڑکیوں کو خبردار کرنے کیلئے کی جا رہی ہے جو بعض اوقات اپنے گھریلو حالات سے پریشان ہوتی ہیں اور جو بھی پیار سے بات کرے اسی کو ہمدرد سمجھ کر اعتبار کر لیتی ہیں اور اپنی نادانی میں غلیظ مردوں کی ہوس کا شکار بن جاتی ہیں !

عام زندگی کے علاوہ یہاں نیٹ پر بھی کئی بد کردار ، آوارہ اور عیاش فطرت لوگ صرف لڑکیاں پھنسانے اور انکی ...معصومیت سے فائدہ اٹھانے کیلئے آتے ہیں ، ان کا ایک خاص طریقہ کار ہوتا ہے ، جس پر عمل کر کے وہ لڑکی کو با آسانی شیشے میں اتار لیتے ہیں

کبھی مذھب کا لبادہ اوڑھ کر خود کو پارسا ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو کبھی بہت میٹھا ، با اخلاق بن کر اعتماد جیتا جاتا ہے ، پھر Inbox Messages شروع ہو جاتے ہیں ، فون نمبر مانگا جاتا ہے ، پھر تصاویر مانگی جاتی ہیں اور لڑکی کو یقین دلانے کیلئے الله اور رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جھوٹی قسمیں تک کھائی جاتی ہیں کہ صرف میں ہی دیکھوں گا اور کسی کو نہیں دکھاؤں گا ، اب جو لڑکی بیوقوف ہوتی ہے یا اپنے حالات کی ستائی ہوتی ہے وہ ان باتوں میں آ جاتی ہے اور ان بے غیرتوں کو ہمدرد سمجھ کر اپنے حالات شئیر کر لیتی ہے اور اعتبار کر کے اپنی تباہی کا سامان کر لیتی ہے

اور پھرجب وہ لڑکی مکمل طور پر ان کے بس میں آ جاتی ہے تو ملاقات پر اصرار کیا جاتا ہے ، ملنے سے انکار پر لڑکی کے گھر والوں کو بتانے کی دھمکیاں دے کر اس لڑکی کو باہر بلا کر اس کی عزت کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے اور اس کی بھی ویڈیو اور تصاویر بنا لی جاتی ہیں جن کو مستقبل کی بلیک میلنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، یعنی ایک شریف لڑکی کو جسم فروشی کی اس دلدل میں دھکیل دیا جاتا ہے ، جس سے وہ چاہ کر بھی نہیں نکل سکتی ، لڑکی صرف اس ڈر کی وجہ سے کہ کہیں گھر والوں کو پتا نہ چل جائے ، بس تڑپتی ہے اور اپنی قسمت کو کوستی ہے کہ کس لمحے اس سے یہ غلطی ہوئی اور ہر لمحے موت کی دعا مانگتی ہے

لہٰذا میری بہنوں نیٹ پر کسی شخص کا اعتبار نہ کریں جو آپ سے محبت کے نام پر گفتگو کرتا ہو یا مذھب کا سہارا لے کر آپ کے قریب ہونے کی کوشش کر رہا ہو ، یہ بھی ممکن ہے وہ آپ کے ساتھ اور بہت سی لڑکیوں کو بیوقوف بنا رہا ہو اسلئے خود بھی بچیں اور اپنی دوستوں کو بھی بچائیں !

براہ مہربانی نیٹ پر لڑکوں سے رشتے داریاں نہ بنائیں ، نہ ہی ان کو اپنے فوٹو وغیرہ دکھائیں ،

ضرورت کیا ہے آخر ، خود کو نمائش کیلئے پیش کرنے کی ؟؟؟

کیا آپ کو ہونے والے ان نقصانات کا اندازہ ہے جو کل آپ کی آنے والی زندگی تک تباہ کر سکتے ہیں ؟؟؟

اپنی تصاویر اپنی فیملی کے لئے رکھیں ، نیٹ پر ان تصاویرکا بنا اجازت کاپی کر کے غلط استعمال بھی ہو سکتا ہے اور آپ کو خبر تک نہیں ہوتی اور یہ چیز آپ کے لئے نقصان کا باعث بھی بن سکتی ہے !!! ایسے کئی واقعات سامنے آئے ہیں جہاں لڑکیوں کی تصاویر یا وڈیو بنائی گئی اور پھر انھیں بلیک میل کر کے غلط کام کرنے پر مجبور کیا گیا جس کے نتیجے میں کئی لڑکیوں نےخودکشی کر لی !

میری بہنو فرض کریں کہ

اگر آپ ایسی ہی ایک لڑکی ہو جو ایسے کسی بے غیرت انسان کے ہتھے چڑھ گئی ہوں اور گھر والوں کے ڈر سے کسی کو بتا بھی نہیں سکتی کہ کیسے ان لوگوں یا حالات سے چھٹکارا پایا جائے ، تو میری بہنو ایک غلطی تو آپ سے ہو چکی ، جیسے بھی ہوئی مگر اب اس ڈر سے کہ گھر والے کیا کہیں گے ، آپ خاموش نہ رہیں پلیز ،اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے آپ اپنی امی ، بہن وغیرہ کو بتا کر ان سے مدد مانگیں ، ان کا غصہ وقتی ہو گا مگر ہو گا آپ ہی کی بھلائی میں ، اور آپ کو اس غلاظت سے نکلنے میں مدد دے گا اور آئندہ کیلئے ایک سبق بھی . باقی معاف کرنے والی ذات الله پاک کی ہے وہ بہت مہربان اور معاف کرنے والا ہے !

اب آخر میں !!!

آوارہ اوباش لڑکوں اور مردوں کے لئے ایک پیغام !!!

عورت مقدّس ہے اسکے تقدّس کو اپنے اعمال سے پامال مت کیجئے !

یاد رکھیں !!! کہ آپ آج جس طرح کسی اور کی بہن ، بیٹی کو ورغلا رہے ہو، اس کے ساتھ زنا کرنا چاھتے ہو کل کو یہی سب آپ کے گھر Repaet ہو گا کیوں کہ دنیا مکافات عمل ہے ، کسی کی بیٹی کے تن سے چادر ہٹا نے سے پہلے سوچنا کہ کل یہی کچھ آپ کی بہن بیٹی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہی نہیں بلکہ لازمی ہو گا !

آج اگر آپ کسی کی بچی کی زندگی خراب کرو گے تو کل آپ کی اپنی بیٹی بھی

اسی مقام پر کھڑی ہو گی اور آپ کے پاس سوائے سر پیٹنے کے کوئی چارہ نہ ہو گا !

ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮐﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻌﺾ ﮔﻨﺎﮦ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ

ﻭﮦ ﻭﺭﺍﺛﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﺎﺗﺎﻝ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ

ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ۔ !

اگر آپ اپنے لئے ایک نیک بیوی اور نیک بیٹی کی کی آرزو رکھتے ہو تو

دوسروں کی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بھی عزت دینا سیکھو کیونکہ قران پاک میں ہے

الخَبيثٰتُ لِلخَبيثينَ وَالخَبيثونَ لِلخَبيثٰتِ ۖ وَالطَّيِّبٰتُ لِلطَّيِّبينَ وَالطَّيِّبونَ لِلطَّيِّبٰتِ ۚ

﴿٢٦﴾ سورة النور

(ترجمہ) ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے ہیں اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لئے ہیں۔

اور پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لئے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں۔ —

الله پاک ہم سب کی ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے .

آمین یارب العالمین

 


Via: 

Nisar Awan





--
Shahzad Afzal
http://www.pakistanprobe.com/



Read More >>

Wednesday, September 18, 2013

Zulf Sa Kundal Khule Na - Lyrics - Inayat Hussain Bhatti

Zulf da kundal khule na..
زلف دا کنڈل کھلے نہ 



Zulf da kundal khule na.. 
akh da kajal dule na... 
sir lathe ya soli chariye bhaid piyar da khule na....

Zulf da kundal khule na.. 

Tu parai hoi jaawain fir v main paraya nahi
ishq zarya azmaya sajania... main azmawan aaaya nahi

jag v taan-ain chetey rakhda... dil dibhar no bhuley na
sir lathe ya soli chariye bhaid piyar da khule na....
Zulf da kundal khule na.. 


main e ek teri sorat warga but jia badnwan laan ga
tu je saa lia nah sajna apna saa muka laan ga

lakh vichora barchian maaray 
rat saber di duley na...
sir lathe ya soli chariye bhaid piyar da khule na....
Zulf da kundal khule na.. 


زلف دا کنڈل کھلے نہ 
اکھ دا کجل ڈلے نہ
سر لتھے یا سولی چڑیے
بھید پیار دا کھلے نہ

زلف دا کنڈل کھلے نہ 

تو پرائی ہوئی جانویں
فیر وی میں پرایا نہیں
عشق ذرا آزمایا سجنا
میں آزماون آیا نہیں

جگ وی تائیں چیتے رکھدا
دل دلبر نوں بھلے نہ
سر لتھے یا سولی چڑیے
بھید پیار دا کھلے نہ

زلف دا کنڈل کھلے نہ 

میں اک تیری صورت ورگا
بت جیا بنڑوا لاں گا
توں جے سا لیا نہ سجنا
اپنے سا مکا لاں گا

لکھ وچھوڑا برچھیاں مارے
رت صبر دی ڈلے نہ
سر لتھے یا سولی چڑیے
بھید پیار دا کھلے نہ

زلف دا کنڈل کھلے نہ 


Read More >>

Saturday, June 29, 2013

Talat Hussain Exposing the Bloody Face of Journalism in Pakistan

سید طلعت حسین ایک منجھے ہوئے صحافی ہیں۔ مگر آج طلعت حسین صاحب نے بھی ہا مان لی۔ کیوں کہ یہ سچ ہے نقار خانے میں طوطی کی آواز کوئی نہیں سنتا۔

یہاں بہت سے ایسے عناصر ہیں جوآپکو سچ نہں بولنے دیتے۔ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی صرف وہی لکھتے اور پڑھتے ہیں جس کی آپکو اجازت ملتی۔

طلعت حسین کراچی کے حالات کے متعلق سچ نہیں لکھ سکتا کیوں ک ایم کیو ایم ناراض ہوگی۔ ناراض ہوگی تو کوئی اندھی گولی آپکو یا اپکے گھر والوں میں سے کسی کو بھی نشانہ بنا سکتی ہے۔ ہم سب کو معلوم ہے کراچی کے حالات میں ایم کیوایم کا کتنا ہاتھ ہے مگر جانتے ہوئے بھی کچھ نہیں کر سکتے کیوں کہ جناب الطاف حسین صاحب کے ہاتھ بہت لمبے ہیں۔ لندن جیسے میڑوپولیٹن سٹی جہاں کی سیکیورٹی دنیا کی بہترین اور انتہائی کوالیفائید مانی جاتی ہے اس شہر میں ایم کیوایم ایس منصوبہ بندی کرکے عمران فاروق کا قتل کرواتی ہے تین سال سے زائیدعرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک سکالینڈ یارڑ جیسے ادارے کوئی ثبوت ڈھوںڈے کے لیے ابھی تک مارے مارے پھر رہے ہیں۔ اس لیے ان کے بارے میں چپ رہنا میں ہی بھلائی ہے۔

ایم کیوایم کی دیدہ دلیری کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کے فاروق ستار صاحب کہتے ہیں کہ لندن پولیس اپنی حد میں رہے اگر ایم کیوایم یا الطاف حسین کو کچھ ہوا تو وہ کراچی کو آگ لگا دیں گے۔

دوسرا طلعت حسین نے جن لوگوں کے نام لکھے ہیں وہ ہیں ہمارے صحافی بھائی ان میں ایک نام جو ہم سب کو معلوم ہے وہ ہے نجم سیٹھی یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے فائدے اور پیسے یا کہہ لیں اپنی اور اپنے گھر والوں کی جان کی حفاظت کے لیے صرف وہ لکھیں جو ان  کے آقائوں کو اچھا لگتا ہے۔ انہیں بڑے بڑے عہدے بھی ملیں گے اور ترقیاں بھی۔ 

تسرا وہ سچ ہے جو بہت کڑوا ہے جس پر جاوید چوہدری صاحب کئی بار لکھ چکے ہیں وہ ہیں ہم خود ہم عوام۔ ہمیں ابھی تک اپنے اچھے برے کی تمیز تک کا نہیں پتہ ہم وہ پڑھے لکھے جاہل ہیں جب تک آگ ہمارے گھر تک نہ پہنچے ہم نہیں جاگیں گے۔ چاہے ہمارے ہمسائے جل کر راکھ ہو جائیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہماری لائیٹ آرہی ہے؟ کیوں کے ہمارے گھر یوپی ایس اور جنریٹر لگے ہوئے ہیں۔ ہمارے بچے ہمارے گھر والے محفوط ہیں کیوں کے ہم نے دو دو تین تین گارڈز رکھے ہوئے ہیں۔ ہمارا بزنس صحیح پھل پھول رہا ہے کیوں کے ہمارا پیسہ تو دن دبدن ڈبل ہو رہاہے۔

ہماری نوجوان نسل فیس بک انٹرنیٹ اور موبائیل میں ایسے گم ہے کے آپ انکی طرف سے بلکل نا امید نظر آتے ہیں۔ ہمیں فکر ہے نئی فلم کون سی آرہی ہے۔ ہمیں اس سے کیا غرض کے ٹیلی فون پر لگنے والا ٹیکس کہاں اور کس کے اکائونٹ میں جائے گا۔ پہلے ایک کارڈ لوڈ کرتے تھے اب دو کر لیں گے۔ 

ناامیدی گناہ ہے مگر افسوس ہم اس حد سے بھی بہت آگے نکل چکے ہیں۔ طلعت حسین اور جاوید چوہدری جیسے کالم نگار بھی اس بھینس کے آگے بین بجا بجا کے تھک چکے ہیں۔ پھر یہ وہی لکھتے ہیں جو ان سے لکھوایا جاتا ہے۔

Enough lecture you can read column of Syed Talat Hussain below:



Read More >>

Saturday, June 22, 2013

Jampur‎ Pakistan - BBC Urdu Documentary

Jampur is one of the oldest cities in Pakistan, got inspired from BBC Urdu Documentary about Pakistan Cities this time its about Jampur

Jampur:

Tu phir Chalin Jampur:
جیسے جانداروں کے ساتھ ہوتا ہے، کوئی اپنی طبعی عمر پوری کرتا ہے، کوئی وقت سے پہلے ہی کسی حادثے یا بیماری کی نذر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح شہروں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ کئی شہر سخت جان اور طویل العمر ہوتے ہیں۔ کئی حادثوں یا آفات کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں اور کچھ ماضی کا بوجھ کمر پر لادے بس چلتے رہتے ہیں، چلتے رہتے ہیں ۔۔۔ تو پھر آج ایسا ہی کوئی شہر دیکھنے چلیں وسعت اللہ خان کے ساتھ۔

Watch Documentary Here:



Jampur in Pictures:










Read More >>

Bahawalpur Pakistan - BBC Urdu Documentary

Just watched an excellent short documentary on BBC Urdu it is about old cities of Pakistan and thought of posting it on my blog. I have been to Bahawalpur once when I was a child but still remember that trip.

Bahawalpur:

Tu phir chalin Bahawalpur:

کچھ شہر خود رو نباتات کی طرح پیدا ہوجاتے ہیں۔ کچھ شہر زمین پر میخوں کی طرح گاڑ دیے جاتے ہیں۔لیکن بعض شہروں کو تاریخ اور دعا جنم دیتی ہے اور پھر وہاں کے لوگ انہیں لاڈلے بچوں کی طرح پالتے ہیں۔آج ایسا ہی ایک شہر دیکھا جائے جسے ایک ریاست کی فراست نے جنم دیا۔تو پھر چلیں بہاول پور ۔

Watch documentary here http://bbc.in/11tafip















Read More >>

Sunday, April 7, 2013

Answer for Article 62 and 63 by Orya Maqbol Jan and Dr. Shahid Masood

For all those liberal and secular who are questioning about article 62 and 63

Very much efficient answers by Orya Maqbol Jan and Dr. Shahid Masood.

No one has been rejected based on questions like Dua-e-Qanoot... this is just propaganda to hide their sins

Watch video here




Read More >>

Asma Jahangir Escape from live CNBC TV Show

Islamabad: Former President Supreme Court Bar Association Asma Jahangir as refused to sit in a TV talk show with Ansar Abbasi over a row on Islamic clauses in the Constitution of Pakistan.

Asma Jahangir was already aware of this that he is going to sit with Ansar Abbasi but she wanted to show this drama to Public.  I believe when she can't defend his illogicality views she refused to talk.

Very very good point by Ansar Abbasi that when we go for CSS exam same and similar question are asked no one object it. So why are they objecting these questions.




Video:

Read More >>

Thursday, March 28, 2013

Atif Aslam Wedding Pictures with Sara Bharwana

A bit sad news for girls who wished for Atif Aslam. Atif Asalm got married yesterday with Sara Bharwana. His choice is good as Sara is very beautiful.

Here are some of picture collected from different website. Atif Aslam with his bride their Mehndi last night :)

This was a function for close friends, family and only a handful of media people.


This is the best picture...  Perfect Couple.. Sara is looking so innocent :)

Atif in some Gandasa Style

Atif enjoying his dance moves

Both looking very happy :)

Ok ini khushi :D

This one I don't know but may be some Khattak Dance... 

Nice looks :)

Atif Aslam's Medni 

Wow set is just awesome

Wow set is just awesome

Not sure if Mahira was present in Atif's wedding.

Atif Asalm's wedding card.



















Read More >>

Wednesday, February 27, 2013

Human Rights Commission of Pakistan Website Hacked

Human Rights Commission of Pakistan website was hacked by bunch of UAE hackers this Tuesday, February 26, 2013. But after few hours of hacking Pakistan Cyber Army claimed it back.

UAE hackers named themselves "Gh()sT HAXOR- BOZZERROR"  left a message




"Never Touch UAE ./Web or Cyber or We Will Burn Every Web On Your Server"

After above incident Pakistan Cyber Army announced site to be Restored. But infect they did not restore the website they Left their own message :)

and kind of hacked again....


Pakistan Cyber Army are self announced free security provider to Pakistani websites, in return they need a footer asking for back link "linkback on your footer saying Secured By Pakistan Cyber Army".

I am still confused that may be "Pakistan Cyber Army" themselves hack a website leave some unknown hackers message and claim it back with name of Pakistan Cyber Army. 

Any one knows about Pakistan Cyber Army?

Read More >>

Thursday, November 29, 2012

اردو کی معروف افسانہ نگار صفیہ صدیقی انتقال کرگئیں


اردو کی معروف افسانہ نگار صفیہ صدیقی 28 نومبر، 2012 کی شام لندن مین انتقال کرگئیں۔ وہ کافی عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھیں۔
انا للہ وانا الیہ راجعون
راقم الحروف کو صفیہ صدیقی کے انتقال کی خبر فرزند ابن صفی جناب احمد صفی نے دی۔ یاد رہے کہ صفیہ صاحبہ، احمد صفی کی سگی خالہ اور جناب ابن صفی کی سالی تھیں۔ احمد صفی صاحب کے دکھ بھرا پیغام میں تحریر تھا کہ "آج میں نے اپنی ماں کو دوبارہ کھویا ہے"۔ احمد صفی صاحب حال ہی میں بزم قلم کے رکن بنے ہیں۔ ہم ان کے دکھ میں برابر کر شریک ہیں اور ان کی خالہ صاحبہ کے درجات کی بلندی کے لیے دعاگو ہیں۔  
 
راقم نے ابن صفی پر تین ماہ قبل مرتب کردہ اپنی کتاب "کہتی ہے تجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا" میں مندرجہ ذیل سطور درج کی تھیں:
"صفیہ صدیقی۔ابن صفی کی سالی، معروف افسانہ و ناول نگار۔آبائی تعلق قصبہ نگرام ضلع لکھنو سے ہے۔گزشتہ کئی دہائیوں سے لندن میں مقیم ہیں۔روزنامہ جنگ لندن سے وابستہ رہیں، 1982 میں خرابی صحت کے باعث جنگ کی ملازمت ترک کردی۔ تادم تحریر افسانوں کے پانچ مجموعے اور ایک ناول (وادی غربت میں) شائع ہوچکا ہے۔ "
صفیہ صدیقی کے حالات زندگی، ان کی انتہائی مختصر مگر اہم خودنوشت، افسانے و دیگر مواد راقم الحروف کے پاس محفوظ ہے۔ کوشش ہوگی کہ اسے ایک مضمون کی شکل دی جاسکے۔ 
محترم سید معراج جامی نے اپنے جریدوں پرواز اور سفیر اردو کے صفی صدیقی نمبر شائع کیے تھے۔ سفیر اردو میں شائع ہوئی صفیہ صدیقی کی ایک تصویر منسلک ہے جس کا عنوان خود ان کے ہاتھ کا تحریر کردہ ہے۔ مذکورہ تصویر میں وہ انتہائی بائیں جانب براجمان ہیں۔ 
صفیہ صدیقی سے راقم الحروف کا رابطہ بذریعہ ای میل کافی عرصے رہا، وہ بزم قلم پر راقم کی شامل کردہ چیزیں انہماک سے پڑھا کرتی تھیں، ان کے کئی پیغامات آج بھی محفوظ ہیں۔ 24 نومبر 2011 کو بھیجا گیا ایسا ہی ایک پیغام پیش خدمت ہے:
"عزیزم را شد۔ بہت سی دعائیں
ابھی آپ کی بھیجی ہوئی میل دیکھی اور پڑھی، اور ان تصویروں میں میرے بھائی جان کی بھی ایک تصویر تھی کافی  پرانی، بہت خوشی ہوئی، آ پ کو شائد معلوم نہیں کہ مکین احسن کلیم میرے بڑے بھائی تھے، وہ لا ہور میں تھے جب ان کا انتقال ہوا۔ قیصر تمکین صاحب نے  خبر گیر میں ان کا تزکرہ کیا ہے، یہ کتاب میرے پاس ہے، جب انھیں معلوم ہوا کہ میں ان کی بہن ہوں تو تمکین صاحب میرا بہت خیال کرنے لگے تھے، وہ کوئی 14 یا 15 برس کے رہے ہوںگے جب وہ قومی آواز میں پارٹ ٹائم کام کیا کرتے تھے وہیں بھائی جان سے ملا قا ت ہوئی تھی۔ یہ کوئی 80 کی دھائی ہوگی جب ساقی فاروقی کے افتخار عارف کے نام خط کا بہت شہرہ ہوا تھا مگر یہ شائد ہی کسی کو معلوم ہو کہ اسمیں کیا تھا، یہ بھی مشہور تھا کہ 24 صفحوں کا خط تھا۔ 
دعاؤ ں کے ساتھ
صفیہ
جیسا کہ مکتوب سے ظاہر ہے، مکین احس کلیم مرحوم، صفیہ صدیقی کے بھائی تھے۔ راقم الحروف نے " کہتی ہے تجھ کو  خلق خدا غائبانہ کیا" میں صفیہ صدیقی کا ایک اہم مضمون " بوئے گل سو گئی" بھی خصوصی طور پر شامل کیا تھا۔ یہ تمام چیزیں اور ان کے چند افسانے یہاں عنقریب پیش کیے جائیں گے۔
راشد اشرف
کراچی سے  

__._,_.___
Attachment(s) from haider qureshi
1 of 1 Photo(s)



Read More >>

Popular Posts

 
Web Statistics

Receive all updates via Facebook. Just Click the Like Button Below

Powered By | Blog Gadgets Via Blogger Widgets